New Web Site and RSS Feed
I have moved the entire web site into wordpress - all the blogs anyway. So to get the new blog entries, update your bookmarks and RSS aggregators with the following URLs:
اسلام عليکم معزز قارئين!
يہ ويب سائٹ ايک نئ جگہ منتقل ہو چکي ہے - از راه کرم نيا پتہ نوٹ فرمائيں...
New Web Page Link:
http://www.salambazar.com/blog/
New RSS Feed Link:
http://www.salambazar.com/blog/?feed=rss2
January 21, 2007 : 2 Muharam 1428 Hijriah
مدينے کا سفر!
الحمدلله اس سال الله نے حج کي سعادت بخشي- مکہ اور مدينہ پہلي مرتبہ ديکها! ميں نے سعودي عرب ميں خوب تصاوير کهينچيں اور انشاءالله جلد ہي حج کے بارے ميں بلوگ اينٹري لکهونگا ...پوڈکاسٹ ريکارڈ کرونگا اور تصاوير بهي اسي ويب سائٹ کي فوٹو گيلري پر شائع کرونگا -

October 22, 2006 : 28 Ramadhan 1427 Hijriah
عيد مبارک
همارے شہر کيلگري ميں عيد الفطر إنشاءالله پير کے دن ہوگي- ساري دنيا کو ہماري جانب سے عيد سعيد مبارک ہو- ہماري دعا ہے کہ اللہ پاک ہم سب کے روزوں اور ديگر عبادات کو قبول فرماۓ، آمين- آجکل ميں اردو ميں ايک پوڈکاسٹ يعني باآواز بلوگ شروع کرنے کے بارے ميں سوچ رہا ہوں-
September 26, 2006 : 3 Ramadhan 1427 Hijriah
رمضان مبارک
تمام قارئين کرام کو ہماري طرف سے ماه رمضان مبارک ہو- اللہ تعاليٰ سب کے روزے، نماز اور ديگر عبادات قبول فرماۓ- آمين!
ملاحظہ ہو ہماري مسجد کي کل رات کي ريکارڈ کي گئ تراويح کي دو رکعتيں آڈيو پوڈکاسٹ کے ذريعہ...
August 26, 2006 : 1 Syaaban 1427 Hijriah
ادهوري غزل
آج صبح صبح مجهے ايک غزل کے دو مصرعے ياد آۓ پتہ نہيں کيوں...ملاحظہ فرمائيے مندرجہ ذيل ادهوري غزل -
چين سے سو رہا تها ميں
کس نے مجهے جگا ديا
قبر پہ اب وه آۓ ہيں
خاک ميں جب ملا ديا
نہ جانے کتنا اس بوڑهے دماغ پر زور ڈالا ليکن کم بخت غزل ہے کہ ياد ہي نہيں آکر ديتي...اگر قارئين ميں سے کسي کو ياد ہو تو ازراه کرم مجهے اي ميل کر ديں - پليز!
umair at salambazar.com
July 15, 2006 : 18 Jamadil_Akhir 1427 Hijriah
شاہي سپاري
سونف سپاري چهاليہ اور پان سے زياده وطن کي ياد بهلا کيا چيز دلا سکتي ہے؟ کهانے پينے کي چيزيں تو ہر جگہ ہي مل جاتي ہيں ليکن شاہي سپاري کا شمار ان چيزوں ميں آتا ہے جو صرف ان جگہوں پر دستياب ہوتي ہيں جہاں پاکستانيوں کي بهرمار ہو- ہمارے شہر کيلگري ميں اتنے پاکستاني نہيں موجود جتنے ٹورونٹو يا نيو يارک ميں ہونگے، ليکن شاہي سپاري کے ڈبے باآساني ملنے لگے ہيں، الحمدللہ - کہنے کا مقصد محض کہنا ہي نہيں ہے، اس سے يہ اندازه ماخوذ کيا جا سکتا ہے کہ اب دنيا سکڑ کر بہت چهوٹي جگہ ہو چکي ہے اور فاصلے بہت کم لگنے لگے ہيں- ورنہ کيلگري جيسي دور دراز جگہ ميں شاہي سپاري تو درکنار، حلال گوشت بهي بمشکل ملنا چاہيۓ تها!
April 16, 2006 : 16 Rabiul_Awal 1427 Hijriah
مولانا طارق جميل
ميں آجکل مولانا طارق جميل کے بيانات کے MP3s سن رہا ہوں- الله کے فضل و کرم سے مجهے طارق جميل صاحب کو براه راست سننے کا شرف نصيب ہوا تها کچھ سال پہلے، ہيوسٹن کے مدرسہ اسلاميہ ميں- طارق جميل کو الله نے بے حد علم عطا فرمايا ہے اور تقارير کرنے کے بہترين انداز کے علاوه بہت عمده حافظہ نصيب فرمايا ہے- طارق جميل صاحب کو سن کر الله کي عظمت کا اندازه ہوتا ہے - طارق جميل صاحب کي تقارير اکثر لوگوں کو رُلا ڈال ديتے ہيں- اگر آپ اردو سمجهتے ہيں تو آپ کو ميں دعوت ديتا ہوں کہ آپ بهي انکي تقارير سنيۓ مندرجہ ذيل پتہ پر:
http://is.aswatalislam.net/DisplayFilesP.aspx?TitleID=2070&TitleName=Tariq_Jamil
January 10, 2006 : 10 Zulhijjah 1426 Hijriah
عيد مبارک
تمام قارئين کو ہم سب کي جانب سے بہت بہت عيد مبارک! آئيں ہم سب مل کر اللہ پاک سے دعا کريں کہ وه اپنے فضل کرم سے ہميں اگلے حج ميں شرکت کرنے کي سعادت نصيب فرمائيں، آمين- اگلا حج انشاءاللہ اسي سال کے اختتام ميں ہوگا-

November 06, 2005 : 3 Syawal 1426 Hijriah
من چلے کا سودا
ميں دو سال پہلے پاکستان سے اشفاق احمد مرحوم کي (اور انکي بيگم قدسيہ بانو کي) چند کتابوں کے ساتھ ساتھ انکے ڈرامے "من چلے کا سودا" کي ڈي وي ڈيز بهي لايا تها- ليکن يہاں آنے کے بعد زندگي مصروفيات ميں لگ جانے کي وجہ سے ابهي تک نہ کتابوں کو پڑھ سکا ہوں اور نہ ڈرامہ ديکھ سکا ہوں- انشاءاﷲ اس سال کرسمس کي چهٹيوں ميں پروگرام ہے کہ اشفاق احمد صاحب کا ڈرامہ ضرور ديکھوں گا-
November 03, 2005 : 30 Ramadhan 1426 Hijriah
October 15, 2005 : 11 Ramadhan 1426 Hijriah
ماں کا خواب - علامہ اقبال
ميں سوئي جو اک شب تو ديکھا يہ خواب
بڑھا اور جس سے مرا اضطراب
يہ ديکھا کہ ميں جا رہي ہوں کہيں
اندھيرا ہے اور راہ ملتي نہيں
لرزتا تھا ڈر سے مرا بال بال
قدم کا تھا دہشت سے اٹھنا محال
جو کچھ حوصلہ پا کے آگے بڑھي
تو ديکھا قطار ايک لڑکوں کي تھي
زمرد سي پوشاک پہنے ہوئے
ديے سب کے ہاتھوں ميں جلتے ہوئے
وہ چپ چاپ تھے آگے پيچھے رواں
خدا جانے جانا تھا ان کو کہاں
اسي سوچ ميں تھي کہ ميرا پسر
مجھے اس جماعت ميں آيا نظر
وہ پيچھے تھا اور تيز چلتا نہ تھا
ديا اس کے ہاتھوں ميں جلتا نہ تھا
کہا ميں نے پہچان کر ، ميري جاں!
مجھے چھوڑ کر آ گئے تم کہاں!
جدائي ميں رہتي ہوں ميں بے قرار
پروتي ہوں ہر روز اشکوں کے ہار
نہ پروا ہماري ذرا تم نے کي
گئے چھوڑ ، اچھي وفا تم نے کي
جو بچے نے ديکھا مرا پيچ و تاب
ديا اس نے منہ پھير کر يوں جواب
رلاتي ہے تجھ کو جدائي مري
نہيں اس ميں کچھ بھي بھلائي مري
يہ کہہ کر وہ کچھ دير تک چپ رہا
ديا پھر دکھا کر يہ کہنے لگا
سمجھتي ہے تو ہو گيا کيا اسے؟
ترے آنسوئوں نے بجھايا اسے

