You are hereBlogs / Hassas's blog / پاكستان كا مسيحا بالاآخر عمران خان ہي ہوگا

پاكستان كا مسيحا بالاآخر عمران خان ہي ہوگا


By Hassas - Posted on 29 August 2008

پاكستان كي سياست ميں يوں تو كئي ايسے ليڈر آئے۔ جنہيں بے پناہ شہرت ملي ۔قائد اعظم كے بعد
ذوالفقار علي بھٹو ، مجيب الرحمان ، بے نظير بھٹو ، اور الطاف حسين شامل كئے جاسكتے ہيں ۔ الطاف حسين مہاجر سياست كے شہ سوار ہيں اور في الحال وہي انكي قوت كا سرچشمہ ہے ۔ بے نطير كو جو شہرت حاصل ہے وہ زرداري صاحب مس ہينڈ ل كررہے ہيں ۔ عمران خان پاكستان كے لاكھوں دلوں كي دھڑكن ہيں۔ سياست ميں آنے سے پہلے ہي ورلڈكپ جيت كر انہوں نے اقوام عالم ميں پاكستان كا سر فخر سے اونچا كرنے كا معركہ ء مشكل سرانجام دے ديا تھا ۔ بعد ازاں انہوں نے ايك ہاتھي پالنے كا اراداہ كيا اور قوم كوايك ہماليائي كينسر اسپتال كا تحفہ دينے كا ارادہ كيا ۔ قوم نے ان كا سا تھ ديا اور آج پاكستان كا سب سے بڑا كينسر ہاسپٹل عوام الناس كے سامنے ہے ۔ عمران خان نے جب كوچہ ء سياست كا حال ديكھا تو سوائے دھوكہ بازي ، ضميروں كي فروخت ، راتوں رات قائد اعظم كي ليگ كبھي جنرل ايوب كي گود ميں ، تو كبھي جنرل ضيا كي گودميں توكبھي جنرل مشرف كے جوتے چاٹتي نظر آئي اور بے نظير كي پارٹي ميں قيادت ميں معاملے ميں جمہوريت شاذ شاذ ہي نظر آئي۔ عمران نام تھا ايك ڈسپلنڈ انسان كا ۔ جو بے لاگ، اپنے قول كا سچا اور كچھ كرنے كي دھن ركھنے والا تھا ۔ اسنے تہييہ كيا كہ چور دروازے سے نقب نہيں لگائے گا ۔ چور دروازے سے كبھي اقتدار ميں نہيں آئے گا ۔ جنرل ضياء كے عہد ميں اسے آفرز ہوئيں ۔ جنرل مشرف نے تو اسے وزيراعظم تك بنانے كي آفر كردي ۔ مگر وہ ايك كٹھ پتلي وزير اعظم بننے كے لئے تيار نہ تھا ۔ گذشتہ دو سالوں سے جب سابق اور قابض صدر پاكستان نے عدليہ كے ساتھ محاذ كھولا ۔ تو عمران خان نے اس غير آئيني حركت پرحكومت وقت كي سخت سرزنش كي اور چند ہي دنوں ميں پاكستان كے وكلاء نے بھي محسوس كيا كہ عمران خان سچے معنوں ميں انصاف كا حامي ہے اور اپني تحريك ميں مخلص ہے ۔ پاكستان كے طول و عرض ميں عمران خان كي تحريك انصاف ميں وكلاء اور عام لوگ شامل ہونے لگے ۔ اسي دوران عمران خان نے ايم كيو ايم كے رہبر تحريك كو بھي اپني سخت تنقيد كا نشانہ بنايا جب انكي پارٹي نے چيف جسٹس كي كراچي آمد كے موقع پر مزاحمت كا اعلان كيا ۔ كراچي ميں خونريزي كے واقعات ہوئے ۔ ايم كيو ايم نے ديگر پارٹيوں كو اور تحريك انصاف اور ساري اپوزيشن پارٹيوں نے ايم كيو ايم كا اس كا ذمہ دار ٹہرايا ۔ عمران خان نے الطاف حسين كے برطانوي سٹيزن ہونے كے بعد انكي پاكستاني سياست ميں مسلسل مداخلت كو بھي كڑي تنقيد كا نشا نہ بنايا ۔ اور لندن جاكر وہاں ان پرمقدمات دائر كرنے كا اعلان كيا ۔ جو ہنوز انڈر پروسيس ہے ۔ عمران خان نے كينيڈا ميں ايم كيو ايم كو دہشت گرد پارٹي قرار دلواديا۔ ان ہي دنوں پنجاب ميں عمران خان كي اتحادي پارٹي جماعت اسلامي كے طلباء ونگ كي عمران خان كے پنجاب يونيورسٹي ميں خطاب كے اعلان نے اسلامي جمعيت طلباء كے لوگوں ميں ايك سراسيمگي پيدا كردي اور انكي پر تشدد مزاحمت نے عمران خان كو پاكستان بھر كے طلباء ميں راتوں رات مقبول كرديا ۔ خود پنجاب يونيورسٹي جہاں سوائے جميعت كے كسي كو چراغ نہ چلتا تھا ۔ وہاں بھي انصاف اسٹوڈنٹس فيڈريشن وجود ميں آگئي ۔ اور پاكستان كي تقريبا ہر يونيورسٹي ميں انصاف اسٹوڈنٹس كا قيام عمل ميں آرہا ہے اور يہ سلسلہ كالجز تك پہنچنے لگا ہے۔ عمران خان كي پارٹي وہ واحد پارٹي ہے جو مسلح نہيں ہے اور اس امر كي سختي سے مخالفت كرتي ہے ۔ ٣نومبر كے سابق اور ْقابض صدر كے اقدامات كے بعد بے نظير اور نواز انتخابات ميں كود پڑے ۔ حالانكہ يہ ايك غير جمہوري طرز عمل تھا ۔ اگر عمران خان بھي حصہ لے ليتے ۔ تو يقين جانئے دس سے بارہ نشستيں ان كے لئے بہت آسان ہوتا ۔ تاہم انہوں نے ايك غاصب كے نيچے اور ايك غير آئيني صدر كے انڈر اور وہ بھي نئے پي سي او كے بعد انتخابات ميں حصہ لينے سے انكار كرديا اور آج حالات بتا رہے ہيں كہ عمران خان كا موقف كل بھي درست تھا اور آج بھي ۔
اب آتا ہوں وہ بات جس نے مجھے يہ بلاگ لكھنے پر مجبور كيا ۔ پاكستان كے اس سپوت نے لاہور ، پنڈي پشاور ،كراچي ميں سستے تندور كھولنے كا فيصلہ كيا ہے اور رمضان المبارك ميں لوگوں كو روٹي دو روپے ميں مل سكے گي ۔ اور انہوں نے كھاڑك لاہور ميں پہلے تندور كا افتتاح كرديا ۔ اور مزيد وہ ايسے تمام لوگوں كي حوصلہ افزائي كرنا چاہتے ہيں جنہيں تندور كھولنے كے لئے ابتدائي سرمايہ چار سے پانچ ہزار تك چاہييے۔ ان كا كہنا ہے بعد ازاں يہ تنور مستقل لنگر خانے كا روپ بھي دھار سكتے ہيں تاہم اس مٰيں بہت سے مخير حضرات كي مدد دركار ہوگي ۔قارئين كرام ياد كيجئے يہ وہي عمران خان ہے ۔ جس نے اب تك جو كہا اسے پورا كيا ہے ۔ اسي عمران خان نے ميانوالي ميں پاكستان كي انتہائي جديد يونيورسٹي نمل كے نام سے بنائي ہے ۔ جو في الحال ايك كالچ كي شكل ميں ہے ۔ اور پاكستان كے وڈيرے اپنے تعلقات استعمال كركے اسكے قريب زمينيں خريد كر مسقبل ميں معاشي فوائد حاصل كرنے ميں لگے ہوئے ہيں ۔ مجھے يقين ہے كہ قائد اعظم كے بعد اگر كوئي شخص پاكستان كا مسيحا كہلائے جانے كا حقدار ہے تو وہ عمران خان ہي ہے ۔ابھي لوگ پي پي پي اورنواز كا نام ليتے ہيں ۔ اك ٹرم اور سہي۔ لوگ اپنے صحيح مسيحا كي طرف ضرور دوڑيں گے ۔ ويسے بھي اللہ تعاليٰ كا اصول ہے كہ وہ كسي بھي قوم كا تباہ كرنے سے پہلے اتمام حجت ضرور كرتا ہے ۔ جس كا دوسرا مطلب يہ ہے كہ ہميں ايك نيك، صالح، اصولوں والا اور يقيں محكم ، عمل پيہم كے ذريں اصولوں كا پرتو ضرور ملے گا ۔ ميري