You are hereBlogs / Hassas's blog / حساس کا سفرنامہ- قسط3

حساس کا سفرنامہ- قسط3


By Hassas - Posted on 28 August 2008

ایک غیر اسلامی سرزمین میں جب ایک پارسا یا گنہگار انسان قدم رکھتا ہے ، تو اسکے احساسات کافی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں ۔ میں جب یہاں آیا تو ہر جانب ایک نئے مذہب کے لوگ، مختلف النسل کلچرز کو دیکھنے کا موقع ملا۔ ہر ہندوستانی مجھے اپنے جیسا لگتا تھا ۔ لوگ اکثر آپ کو انڈین کہکر پکارتے ہیں ۔ چنانچہ پہلی بات جس کا شدت سے مجھے احساس ہؤا۔ وہ یہ مجھے اپنے مذہبی ویلیوز کو از سر ِ نو اجاگر کرنا ہوگا ۔ نماز پڑھنے کو دل مچلنے لگا ۔ مسجد جانا ایسا لگتا تھا جیسے کسی نے پارٹی میں مدعو کردیا ہو ۔ نعتیہ ، تدریسی محافل کسی رحمت کی طرح محسوس ہونے لگیں۔ یہ احساس پاکستان میں رہتے ہؤئے خفیف تھا ۔ غالبا وہاں سارے ہی پاکستانی اور تقریبا تمام ہی مسلمان ہیں ۔ اس لئے اپنے مذہب کی حفاظت کا اس شدت سے احساس نہیں ہوتا تھا ۔ یہاں جب پاکستانی فنکشنز ہوتے ہیں تو بچوں کو وہاں لے کر جانے کا اور دکھانے کا اس لحاظ سے بھی خیال کرتا ہوں کہ اس طرح ہم اپنے کلچر اور وطن سے جڑے رہیں گے ۔ یہاں ایک اور بات بتاتا چلوں۔ بڑی سے بڑی شخصیت تک پہنچنا ، اس سے سلام دعا کرنا بہت ہی آسان کام محسوس ہوتا ہے ۔ امریکن کانگریس کے نمائندے اور ریاست کے نمائندے تک رسائی کوئی مشکل امر نہیں۔ اے کاش کہ پاکستان میں بھی ایسا ہی ہوجائے۔ میرے ایک کزن جن کے والد لاہور میں انتہائی علیل تھے اور وہ انہیں امریکہ میں علاج کے لئے بلوانا چاہتا تھا ۔ ہم دونوں ہیوسٹن میں مقیم کانگریس کے نمائندے ایل گرین سے ملنے گئے۔ اور بتایا کہ ہمیں آپکی مدد چاہیئے، ہیوسٹن کے ایک ہاسپٹل نے انکے پاکستان سے آئے ہوئے کاغذات پر علاج پر رضامندی کا اظہار کیا ہے اگر انہیں بلوا لیا جائے۔ اس نمائندے نے نہ صرف طریقہ ء کار ہمیں بتایا ، بلکہ اپنے سیکریٹری سے کہکر امریکن قونصلیٹ اسلام آباد فون کرکے انٹرویو کی تاریخ بھی لے دی اور ایک لیٹر ٹائپ کرکے دیا کہ اپنے والد کو دینا کہ بوقت ِ انٹرویو وہ اسے ساتھ لے کر جائیں ۔ اور یوں ان کا کام ہوگیا ۔ اقبال کا شعر یاد آیا
درد ِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو ورنہ اطاعت کے لئے کچھ کم نہ تھے کروبیاں
(باقی آئیندہ نشست پر) ابن ِ مفتی اگست28