You are hereBlogs / Hassas's blog / حساس کا سفرنامہ - قسط2

حساس کا سفرنامہ - قسط2


By Hassas - Posted on 27 August 2008

ایک پاکستانی اور مسلمان ہونے کے ناطے جب میں پیلی مرتبہ امریکہ کی سرزمین میں آیا۔ تو ہر لحاظ سے مختلف ماحول کا سامنا کرنا پڑا۔ سڑکوں پر آپکو اپکی تعلیمات کے برعکس ہوتی بہت سی چیزیں دکھائی دیتی ہیں ۔ اشتہاری بورڈز اپکی آنکھوں کو شرمانے پر مجبور کردیتے ہیں ۔ تاہم ہر کوئی شخص مسکراہٹ شیئر کرنے میں حاتم طائی کو بھی پیچھے چھوڑ دیتا ہے۔ گڈ مارننگ، ہاؤ آر یو ، ہاؤ یو ڈوئن ، وٹس اپ تو جیسے انکے تکیہ ہائے کلام ہیں ۔ صبح ، دوپہر ، شام اور رات کے سلام ہروقت ان کی زبانوں سے نکلنے کے لئے بےتاب رہتے ہیں ۔ کبھی کبھی سوچتا ہوں ۔ ہر شخص کو چاہے یہ لوگ جانتے ہوں یا نہ جانتے ہوں ۔ ان الفاظ کا سہارا لیکر اپنا گرویدہ بنا لیتے ہیں ۔ خصوصا ہمارے لئے تو یہ تجربہ بہت ہی خوشگوار محسوس ہوتا ہے ۔ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے مذہب میں پانچ نمازوں کا جو حکم ہے ۔ غالبا اس کے پیچھے مسلمانوں کی آپس کی اِنٹریکشنز کو بھی مدِ نظر رکھا گیا تھا۔ مگر ہم ہیں کہ نمازیں پڑھنے کو باوجود ساتھ میں بیٹھنے والے شخص سے دعا یا سلام تک نہیں کرتے۔ ابھی امریکہ میں کچھ عرصے سے کچھ علماء نے اس سلسلے کی حوصلہ افزائی کرنے کی سعی کی ہے۔ وگرنہ میری نظر ِ ناقص میں نمازوں کے دیگر برے فوائد کے علاوہ اس کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ آپ اس طرح پوری مسلم کمیونٹی سے واقف ہوجائیں اور انکے دکھ درد کے ساتھی بن سکیں ۔ (باقی آئیندہ)