You are hereBlogs / Hassas's blog / حساس کا سفرنامہ
حساس کا سفرنامہ
کراچی یونیورسٹی سے 1992 میں ماسٹرز کرنے کے بعد میں امریکہ کے شہر نیویارک پہنچا اور ایک نئی طرز کی دنیا سے روشناس ہوا۔ آنکھیں حیرت زدہ تب بھی تھیں ۔ اب بھی ہیں ۔ اس وقت کا امریکہ دنیا کے ممالک کا دوست تھا۔ آج دوست کے انداز میں رنگ تحکمانہ کا عنصر زیادہ نمایاں ہے ۔ اندر سے ڈیموکریٹک اور باہر سے امپیرئلسٹک ہونے کا الزام سر لئے ہؤئے ہے ۔ یقینا کچھ باتیں ایسی ہیں جس کے باعث قدرت نے ابھی بھی اسے دنیا کے حاکم اعلیُ کا سا درجہ دے رکھا ہے ۔ من حیث القوم ان کے اندر جھوٹ بولنے کا عنصر انتہائی خفیف ہے ۔ کرپشن کی مقدار ہے مگر کم ۔ عام عوام اسکی دستبرد سے محفوظ ہیں ۔ اشرافیہ اس لت میں اکثر پائے جاتے ہیں اور کبھی کبھار سزا کا ذائقہ بھی چکھ لیتے ہیں ۔ تاہم یہاں کے لوگ اپنے میڈیا کو بائبل سے بھی زیادہ سچا مانتے ہیں ۔ اور یہاں کے میڈیا کے بقول ورلڈ نیوز کا مطلب ہے ۔ امریکہ اور یورپ کی خبریں ۔ کبھی کبھی اپنے آئینے سے دیکھی ہؤئی فلسطین اور عراق کی تصویر کشی کردیتے ہیں ۔ پاکستان یہاں بہت کم پایا جاتا ہے مگر دھیرے دھیرے یہاں کے اکثر ریڈیو چینلز پاکستان کو ہی تمام برائیوں کی جڑ قرار دینے لگے ہیں اور اسکا سہرا ہماری گذشتہ اور آجکل کی حکومتوں کے سر ہے۔ بچے ہمیشہ اپنے ماں باپ کا عکس ہؤا کرتے ہیں سو یہاں بھی پاکستانیوں میں کبھی ایکا نہیں دیکھا گیا ۔ عید ہو ، یوم ِ آزادی ہو ، یا اور کوئی کمیونٹی فنکشن۔ بیک وقت کئی کئی فنکشن ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کو ہمیشہ ناکام اور خود کو کامیاب گردانتے ہیں ۔ مساجد کی رسہ کشی بھی بعنیہ ہی ہے ۔ ہر محفل میں سیاست پر بات ہوتی ہے۔ تلخ کلامیاں بھی ہوجاتی ہیں ۔ نیویارک میں 5 سال گزارنے کے بعد بہتر معاش کے لئے ہیوسٹن ٹیکساس چلا آیا ۔ تب سے وہیں مقیم ہوں ( باقی آئیندہ)
- Hassas's blog
- Login or register to post comments